11 اکتوبر 2026 - 15:56
ایرانی رکنِ قومی اسمبلی: مسلح افواج دشمن کے ہر ممکنہ منظرنامے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں

ایرانی مجلس کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن اسماعیل کوثری نے کہا ہے کہ مسلح افواج کسی بھی نئے حملے اور دشمن کے مختلف ممکنہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں فوجی نقل و حرکت، جنگی اور ایندھن بھرنے والے طیاروں کی پروازوں اور فوجی دستوں کی منتقلی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسماعیل کوثری نے ابنا کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ اور صیہونی ریاست کے متضاد بیانات اور نفسیاتی جنگ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ فریق اپنے حساب کتاب اور بیانات میں متوقع کامیابیوں کی بات کرتے ہیں، لیکن میرے خیال میں وہ عملی طور پر جانتے ہیں کہ اپنے بہت سے مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے ماضی کے تجربات اور عراق کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 1382 ہجری شمسی میں عراق میں امریکی فوجیوں کی آمد کے ساتھ ہی ہم ان کی فوجی سرگرمیوں اور اقدامات کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس وقت بھی بہت زیادہ تشہیر اور ماحول سازی کی گئی، لیکن بعض عراقی کمانڈروں سے ہماری گفتگو ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ تشہیر میں پیش کی جانے والی باتوں اور میدان میں ہونے والی صورتحال میں فرق ہے۔

مجلس کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے حالیہ جھڑپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 12 روزہ جنگ، رمضان جنگ اور تیسری جنگ میں مخالف فریق نے اپنی بڑی صلاحیت میدان میں اتاری۔ رمضان سے رواں سال فروردین کے اختتام تک تقریباً 39 سے 40 روز جاری رہنے والی لڑائی کے دوران مختلف ممالک اور متعدد فوجی دستوں نے امریکہ کی حمایت میں حصہ لیا۔

کوثری نے ان حالات میں نیٹو کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مخالف فریق نے آخرکار تقریباً 5 ہزار پروازوں میں نیٹو کی شرکت کا اعتراف کیا ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ کو حاصل فوجی حمایت کا دائرہ ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔

انہوں نے ایران کے شمالی ہمسایہ ممالک میں سے بعض کے ممکنہ کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کے حوالے سے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں ایرانی سفیر کی موجودگی میں اجلاس بھی ہوئے۔ پیش کی جانے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ صیہونی ریاست بعض علاقوں میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تاہم جن پروازوں کا ذکر کیا گیا، وہ یورپ سمیت دوسرے راستوں سے انجام دی جا رہی تھیں۔

مجلس کے اس رکن نے کہا کہ امریکہ کو خطے کے ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔ دشمن کی فوجی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ تہران کی جانب متوجہ تھا اور انہوں نے اپنی تقریباً 40 فیصد صلاحیت اس علاقے کے لیے مختص کر رکھی تھی، لیکن مسلح افواج کی مزاحمت اور عوام کی موجودگی دشمن کے اندازوں کی ناکامی کی وجوہات میں شامل تھیں۔

کوثری نے آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد دشمن نے لڑائی کا دائرہ خلیج فارس کے ساحلی علاقوں اور صوبوں تک پھیلانے کی کوشش کی، لیکن اس معاملے میں بھی وہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کرسکا۔

انہوں نے افغانستان اور عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے ایک مرحلے پر ان ممالک پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا اور یہاں تک کہ عراق کے ہوائی اڈوں پر بھی موجود تھے، لیکن بعد میں انہیں عراقی اور افغان مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تجربات کی وجہ سے دشمن ایران کے خلاف لڑائی میں زمینی فوج اتارنے کے معاملے میں زیادہ احتیاط سے کام لے گا۔

مجلس کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے مسلط کردہ جنگ کے آخری برسوں میں امام خمینی(رح) کے ایک بیان کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ امام نے تاکید کی تھی کہ دشمن میزائل داغ سکتا ہے اور بم برسا سکتا ہے، لیکن جب اس کے فوجی میدان میں داخل ہوں گے تو عوام ان کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے ملک کے مختلف صوبوں کے قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان کے میدانی دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ جمعرات کو کمیٹی کے ارکان کے مختلف گروپوں کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے خوزستان، سیستان و بلوچستان، جنوبی خراسان اور ملک کے شمال مغربی علاقوں میں بھیجا گیا۔ ان دوروں کے دوران عوام کی موجودگی اور مسلح افواج کی تیاری کا جائزہ لیا گیا۔

کوثری نے کہا کہ عوام رات کے اجتماعات میں شریک ہو رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں جو صورتحال دیکھی گئی ہے، وہ عوام اور مسلح افواج کی تیاری کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ جذبہ دشمن کے اندازوں کو متاثر کرسکتا ہے اور ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں اس کے فیصلے میں تردد پیدا کرسکتا ہے۔

مجلس کے اس رکن نے تاکید کی کہ مسلح افواج مختلف ممکنہ حالات، بشمول دوبارہ حملے اور زمینی فوج داخل کیے جانے کے امکان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور مختلف علاقوں میں فوجی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے ایران کے اطراف پروازوں اور فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشقی پروازیں، ایندھن بھرنے والے اور جنگی طیاروں کی نقل و حرکت اور خلیج فارس کے جنوبی ممالک اور ملک کے مغربی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

کوثری نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں خطے کی صورتحال کے بارے میں امریکی حکام کے بدلتے ہوئے مؤقف اور بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بیانات کا ایک حصہ توانائی کی منڈی پر اثر انداز ہونے اور یہ تاثر پیدا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے کہ امریکہ کامیابی حاصل کرچکا ہے۔

انہوں نے امریکہ اور صیہونی ریاست میں انتخابات کے قریب آنے کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ان فریقوں کے حکام اپنی کامیابیوں کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مجلس کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن نے آخر میں ایرانی افواج کی جانب سے آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ میدان میں بھی اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

کوثری نے لڑائی سے قبل آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد کی مقدار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 18 سے 20 ملین بیرل تیل اس راستے سے برآمد ہوتا تھا، لیکن اب اس راستے سے تیل کی منتقلی کی مقدار تقریباً 35 لاکھ بیرل رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال آبنائے ہرمز میں آمدورفت اور تیل کی برآمد کی صورتحال میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے اور اس آبی راستے کا کنٹرول ایرانی افواج کے پاس ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha